19 دسمبر 2011 - 20:30

مصر کے دار الحکومت قاہرہ ميں مظاہرين اور سيکورٹي فورس کے درميان جھڑپوں کا سلسلہ جاري ہےـ

ابنا: اطلاعات ہيں کہ منگل کي صبح مصر کي فوج اور سيکورٹي اہلکاروں نے التحرير اسکوائر پر جمع مظاہرين پر فائرنگ کي اور آنسو گيس کے گولے پھينکےـ  سيکورٹي اہلکار التحرير اسکوائر کو مظاہرين سے خالي کرانا چاہتے ہيں جو ملک ميں فوجي کونسل کي حکومت کے تسلسل کے خلاف احتجاج کر رہے ہيں ـ

عيني شاہدين کا کہنا ہے کہ فوجيوں اور سيکورٹي اہلکاروں نے التحرير اسکوائر پر موجود مظاہرين پر حملہ کيا اور پھر وہاں رکھے سامان کو آگ لگا دي جس سے طبي ساز و سامان بھي جل گياـ منگل کي صبح جھڑپيں اس وقت شروع ہوئيں جب مظاہرين نے اس ديوار کے ايک حصے کو توڑ ديا جو فوج نے مظاہرين کو پارليمنٹ کي جانب بڑھنے سے روکنے کے لئے کھڑي کر دي ہےـ سيکورٹي اہلکاروں نے درجنوں کي تعداد ميں مظاہرين کو گرفتار کرواليا ہےـ

شہر اسکندريہ ميں بھي فوج کے شمالي زون کي کمانڈ کے دفتر کے سامنے مصري نوجوانوں نے مظاہرے کئےـ اسکندريہ ميں مظاہرے، حکمراں فوجي کونسل کي جانب سے التحرير اسکوائر پر جمع مظاہرين کے خلاف الزام تراشي کے بعد شروع ہوئےـ

اسکندريہ کے مظاہرين کے ہاتھوں ميں ايسي تصاوير تھيں جن ميں قاہرہ ميں مظاہرين پر سيکورٹي اہلکاروں کے حملوں کے مناظر دکھائے گئے تھےـ مظاہرين نے حکمراں فوجي کونسل کے اقدامات کي مذمت کي ـ قاہرہ کي سڑکوں پر کئي دنوں تک مظاہرين پر فوجيوں کے وحشيانہ حملوں کے بعد مسلح افواج کے سربراہ محمد حسين طنطاوي نے مظاہرين کو انقلاب کا دشمن قرار ديا ہے-........

/169